امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی مہلک کارروائی پر انتہائی سخت ردعمل کی وارننگ دے دی ہے۔ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی قیادت کو پہلے ہی واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر انہوں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا، جیسا کہ ماضی میں کیا جاتا رہا ہے، تو امریکا خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔
انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے مظاہروں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیے جانے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ تمام اموات کو براہِ راست سکیورٹی فورسز کی کارروائی قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد بھگدڑ اور بدنظمی کے باعث بھی جان سے گئے ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہر موت کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرا سکتے، تاہم انہوں نے ایران کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا تو تہران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ایران کے حکومت مخالف مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا:
آپ آزادی کے لیے کھڑے ہیں، آپ بہادر لوگ ہیں۔ آپ کے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے، لیکن دنیا آپ کو دیکھ رہی ہے۔”
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے مہنگائی، بے روزگاری اور ایرانی کرنسی کی تاریخی گراوٹ کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے، جو اب پُرتشدد شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان مظاہروں کے دوران درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ حالیہ واقعات میں مظاہرین کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے ایران کو مظاہرین پر تشدد کے استعمال سے خبردار کیا ہو۔ اس سے قبل بھی واشنگٹن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایران کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کر چکا ہے۔
