کیف/لویو: روس نے یوکرین میں ایک طاقتور ہائپرسونک میزائل Oreshnik داغا ہے، جس کا نشانہ کیف کے قریب یورپی یونین کی سرحد کے علاقے میں واقع انفراسٹرکچر تھا۔ یوکرین نے اس حملے کو یورپی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور عالمی برادری سے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا۔ موسکو نے دعویٰ کیا کہ میزائل داغنے کی وجہ صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر مبینہ ڈرون حملہ تھا، جسے یوکرین نے سختی سے مسترد کیا اور امریکہ نے بھی کہا کہ ایسا واقعہ نہیں ہوا۔
یوکرین کے حکام کے مطابق روس نے رات بھر کل 242 ڈرونز اور 36 میزائل داغے، جن میں Oreshnik بھی شامل تھا۔ حملوں کے نتیجے میں کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً پانچ لاکھ گھروں کی بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ شدید سردی اور برف باری کے درمیان شہری بنیادی سہولیات سے محروم رہے، اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
Oreshnik میزائل، جسے روسی میں "ہیزل ٹری” کہا جاتا ہے، یورپ بھر میں طاقت کے اظہار کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور روس کا دعویٰ ہے کہ اسے انٹرسپٹ کرنا ناممکن ہے۔ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم حملے میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ موسکو نے کہا کہ میزائل نے ڈرون فیکٹری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جبکہ یوکرینی ذرائع نے کہا کہ میزائل نے نامعلوم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، اور مقامی میڈیا نے اطلاع دی کہ ایک بڑا زیر زمین گیس اسٹوریج بھی متاثر ہوا۔
بین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ انڈری سیبِہا نے کہا کہ ایسا حملہ EU اور نیٹو کی سرحد کے قریب یورپی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس کا عالمی ردعمل ضروری ہے۔ جرمنی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس کا مقصد خوف پھیلانا اور دھمکی دینا ہے، تاہم یہ موثر نہیں۔ دوسری جانب، یوکرین اور امریکی سفارت کار پیرس میں ایک امن فریم ورک پر بات چیت کر رہے ہیں، جسے واشنگٹن یوکرین کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد روس کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔
