بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عمران خان کی رہائی کے لیے سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عمران خان کو فوری طور پر جیل سے رہا نہ کیا گیا تو پورا پاکستان بند کر دیا جائے گا اور نظام کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے عدالتی کارروائی اور قانونی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے خلاف وارنٹ جاری کیے گئے جبکہ متعلقہ جج خود چھٹی پر چلے گئے، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت سے پیر تک کی مہلت مانگی تھی، مگر ان کی بات نہیں سنی گئی، جس پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے لیے نہیں بلکہ ان کی رہائی تک دھرنا دینے جا رہی ہیں۔ ان کے بقول، “یہ ذاتی مسئلہ نہیں رہا، بس بہت ہو گیا ہے، عمران خان کو رہا کیا جائے، یہ اب ایک فرد نہیں بلکہ پوری قوم کی آواز ہے۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ منگل 13 جنوری کو اڈیالہ جیل کے باہر ایک بڑے روحانی اور احتجاجی اجتماع کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں ختمِ قرآن پاک کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے مطابق اس موقع پر ہزاروں قرآن پاک کے ساتھ اجتماعی قرآن خوانی ہوگی، جس کے بعد پاکستان، شہداء اور قیدیوں کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پرامن ہوگا، مگر پیغام انتہائی واضح ہے کہ عمران خان کی قید اب مزید قابلِ قبول نہیں۔
علیمہ خان نے حکومت اور اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوامی مطالبے کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ اڈیالہ جیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک گیر سطح پر بندش اور مزاحمت دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کا یہ بیان نہ صرف پی ٹی آئی کے احتجاجی بیانیے کو نئی شدت دے سکتا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں سیاسی درجۂ حرارت میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے
