حیدرآباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی نےکہا ہےکہ آئین کےنام نہاد دعویداروں نے26ویں آئینی ترمیم کےذریعے آئین کےڈھانچے کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے، جبکہ آنے والی مزید ترامیم آئین اور قانون کی جڑیں کاٹ دیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انصاف کی فراہمی کے بغیر عدلیہ کی آزادی محض ایک نعرہ ہے۔
حیدرآباد ہائیکورٹ بار کے آڈیٹوریم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ حیدرآباد کے وکلاء کی جانب سے پرجوش اور بھرپور استقبال پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء برادری ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے اگلی صفوں میں کھڑی رہی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آئین خطرے میں پڑا، وکلاء نے مزاحمت کی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس قوی اور منظم تحریک کی توقع وکلاء برادری سے کی جا رہی تھی، وہ اس شدت کے ساتھ سامنے نہیں آ سکی۔
ہم چاہتے تھے کہ وکلاء آئین کے دفاع کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کریں، کیونکہ آج پورا ملک خاص طور پر سندھ سمیت تمام صوبےحقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں، انہوں نےوکلاسے خطاب کرتے ہوئےکیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ تحریک انصاف آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، اور اس جدوجہد میں وکلاء کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں انصاف کا نظام کمزور کر کے طاقتور طبقات کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا نظامِ عدل پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کی تحریک جاری ہے، جو صرف ایک جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔
“یہ تحریک آئین کی بالادستی، عدلیہ کی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کی جدوجہد ہے، اور اس میں وکلاء کا ساتھ ہمارے لیے حوصلے اور طاقت کا ذریعہ ہوگا،” انہوں نے مزید کہا۔
آخر میں وزیر اعلیٰ نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر آئین اور انصاف کے تحفظ کے لیے متحد ہوں، کیونکہ تاریخ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں آئین کے ساتھ کھڑی رہیں۔
