اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل و گیس کے ایک اور بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کر دیا ہے، جسے ملک کے توانائی شعبے کے لیے ایک نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دریافت نشپا بلاک میں کی گئی ہے، جو حالیہ دنوں میں مسلسل کامیابیوں کا مرکز بن چکا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق براگزئی ایکس ون کنویں سے یومیہ 3 ہزار 100 بیرل خام تیل اور 81 اعشاریہ 5 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق یہ ذخیرہ نہ صرف تجارتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ او جی ڈی سی ایل کی گزشتہ ایک ماہ کے دوران نشپا بلاک میں مسلسل تیسری بڑی دریافت ہے، جو کمپنی کی تکنیکی مہارت اور مسلسل تلاش و تحقیق کا واضح ثبوت ہے۔ حالیہ تینوں دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ 9 ہزار 480 بیرل خام تیل حاصل ہو رہا ہے، جو ملکی پیداوار میں قابلِ ذکر اضافہ ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ نئی دریافتیں ملک کی مجموعی خام تیل کی پیداوار میں تقریباً 14.5 فیصد اضافے کا باعث بنی ہیں، جو توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ یہ حالیہ کامیابیاں قومی توانائی سلامتی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں اور ان سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی وسائل کے فروغ سے نہ صرف توانائی کی طلب و رسد میں توازن پیدا ہوگا بلکہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ او جی ڈی سی ایل ملک میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نئے بلاکس میں سرمایہ کاری کا عمل جاری رکھے گی۔
ماہرین کے مطابق کوہاٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تیل و گیس کی مسلسل دریافتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان میں توانائی کے قدرتی وسائل کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جن سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا کر ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں مدد مل سکتی ہے۔
