انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والے پیچیدہ اور تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد بالآخر ایک تاریخی فری ٹریڈ معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے عالمی تجارت کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے اس معاہدے کو ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے دو ارب سے زائد لوگوں کے لیے ایک وسیع فری ٹریڈ زون قائم ہو گیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے بے شمار معاشی مواقع پیدا کرے گا اور یہ شراکت داری کی محض شروعات ہے۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس معاہدے کو تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے مشترکہ عزم کی واضح مثال ہے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 25 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً ایک تہائی کی نمائندگی کرتا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا اور 27 یورپی ممالک کے درمیان کھلی تجارت ممکن ہو سکے گی، جس سے محصولات میں نمایاں کمی، ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ یورپی کمیشن کے مطابق کیمیکلز، مشینری، الیکٹرک آلات اور جہازوں سمیت تقریباً تمام مصنوعات پر محصولات مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں یورپی گاڑیاں، مشینری اور زرعی آلات انڈیا میں سستے ہوں گے، تاہم زرعی شعبے کے حساس حصے جیسے ڈیری اور چینی کو اس معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کے مسودے پر بھی کام کر رہے ہیں، جن میں میریٹائم سکیورٹی، سائبر خطرات اور دفاعی تعاون شامل ہوگا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی جیوپولیٹیکل منظرنامہ غیر یقینی کا شکار ہے، امریکہ کی جانب سے ممکنہ ٹیرف، یوکرین جنگ اور چین پر انحصار کم کرنے کی یورپی خواہش نے اس معاہدے کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا امریکی ٹیرف کے دباؤ سے نکلنے اور یورپی یونین چین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کی تلاش میں تھے، اور یہ معاہدہ دونوں کے لیے ایک اسٹریٹجک فتح ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ انٹیلکچوئل پراپرٹی، ڈیٹا تحفظ اور کاربن ٹیکس جیسے معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مرحلہ وار حکمت عملی اور باہمی مفادات اس معاہدے کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، بشرطیکہ یورپی پارلیمنٹ سے حتمی منظوری حاصل ہو جائے۔
