عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں نے تاریخ کا نیا باب رقم کر دیا ہے، جہاں سونے کی قیمت پہلی بار 5 ہزار ڈالر فی اونس کی حد عبور کرگئی، جس نے سرمایہ کاروں اور مالیاتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی صورتحال، جنگی کشیدگیاں، افراطِ زر کے خدشات اور کرنسی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں سونے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سونا تیزی سے اوپر جاتا ہوا ایک نئی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ چاندی بھی پیچھے نہ رہی اور اس کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد فی اونس چاندی 108 ڈالر تک جا پہنچی۔
رپورٹس کے مطابق صرف ایک سال کے دوران سونے کی قیمت میں حیران کن طور پر 82 فیصد جبکہ چاندی کی قیمت میں 243 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی مالیاتی تاریخ میں غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔
اس عالمی رجحان کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی نمایاں نظر آئے، جہاں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 6 ہزار 500 روپے اضافے کے بعد 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام سونا 4 لاکھ 46 ہزار 812 روپے میں فروخت ہونے لگا۔
دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت بھی 526 روپے بڑھ کر 10 ہزار 801 روپے ہو گئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیمتی دھاتیں اس وقت دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بن چکی ہیں۔
