امریکہ میں شدید برفباری اور سردی نے قہر مچا دیا، 65 افراد ہلاک ہوچکےہیں،امریکہ کے وسطی اور مشرقی حصّے میں طاقتور برفانی طوفان اور شدید سرد ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ہے، جہاں مختلف حادثات اور موسم سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے۔ اس موسم سرما کی لہر نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور درجہ حرارت کئی علاقوں میں نقطۂ انجماد سے بھی کہیں نیچے گر گیا ہے۔
شکاگو میں درجہ حرارت منفی 14 اور کلیولینڈ میں منفی 11 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جب کہ ملک کے بڑے حصّے میں برف اور برفانی تودے نے ٹریفک، روزمرہ کے معاملات اور نظام زندگی کو بری طرح معطل کردیا ہے۔
ٹینیسی اور مسیسیپی جیسی ریاستوں میں شدید برفباری کے باعث ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوچکے ہیں، جس سے گھروں اور کاروباروں میں سخت سردی کا سامنا ہے۔
برف اور سرد موسم کی وجہ سے فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے، بدھ کو امریکن ائیر لائنز کی 653 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایک ہزار سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔ خاص طور پر ڈالاس فورٹ ورتھ ائیرپورٹ پر برفباری اور بارش کی وجہ سے آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی ائیر لائنز نے اپنے عملے کو اضافی شفٹس کے لیے ڈبل تنخواہ کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
محکمہ موسمیات نےمزید سردی کی وارننگ جاری کردی،امریکی محکمہ موسمیات کا کہناہےکہ نیویارک اورنیو جرسی میں شدیدسردہوائیں چلنےکاامکان ہے اوریہ سرد صورتحال اگلے ہفتے تک برقرار رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے عوام کو احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برفانی طوفان اور سردی سے ہلاکتیں65 کے قریب پہنچ چکی ہیں جبکہ ایک لاکھ سےزائدافراد سخت سردی کےباعث بجلی سے محروم ہوگئےہیں، 650سےزائدپروازیں منسوخ اور 1000 سےزائدتاخیرکا شکارہیں
شدیدسردی اورطوفانی ہوائیں اگلےہفتےتک جاری رہنےکا امکان ہےیہ موسمیاتی بحران امریکہ کےمشرقی اوروسطی علاقوں میں انتہائی سردی،برفباری اور نظامِ زندگی کی معطلی کا باعث بن رہا ہے، جس کے اثرات عوامی رابطوں، سفر، توانائی اور روزمرہ کے معمولات تک پھیلے ہوئے ہیں۔
