سابق انگلش کرکٹر مارک بوچر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کو کرکٹ کی دنیا کا سب سے زیادہ منافع بخش اور شائقین کے لیے کشش والا مقابلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کرکٹ کی باڈی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)، کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت ہمیشہ ایک ہی گروپ میں شامل ہوں تاکہ شائقین کی دلچسپی برقرار رہے اور میچ کے تجارتی فوائد بھی زیادہ سے زیادہ ہوں۔
بوچر نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت میچ کا ایک طے شدہ فارمولا ہے، اور اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے معاملے میں سب کچھ ضابطے اور قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ٹیم کو عالمی کرکٹ میں بعض مواقع پر خصوصی مراعات حاصل رہتی ہیں۔
سابق انگلش کرکٹر نے مزید کہا کہ بھارت جہاں چاہے کھیلتا ہے، اور دوسری ٹیموں کو اپنے شیڈول کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے، لیکن اس بار پاکستان نے اپنا موقف مضبوطی سے پیش کیا اور آئی سی سی اور بھارت دونوں پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ استعمال کیا۔ ان کے مطابق، پاکستان کی جانب سے یہ قدم محض کھیل کی سیاست نہیں بلکہ عالمی کرکٹ میں شفافیت اور قواعد کے نفاذ کے لیے بھی ایک اہم اقدام تھا۔
مارک بوچر کے تجزیے کے مطابق، پاک بھارت میچ صرف کھیل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے تجارتی، مالی اور سفارتی پہلو بھی ہیں۔ ہر مقابلہ لاکھوں شائقین، ٹیلی ویژن براڈکاسٹ حقوق، اسپانسرز اور عالمی کرکٹ مارکیٹ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، اس بار پاکستان کا فیصلہ نہ صرف ٹیم کی حکمت عملی بلکہ کھیل میں توازن قائم رکھنے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاک بھارت کرکٹ میں عالمی سیاست، شائقین کی دلچسپی اور تجارتی فوائد جڑے ہونے کی وجہ سے یہ میچ ہر عالمی کرکٹ ایونٹ کا سب سے اہم اور حساس مقابلہ مانا جاتا ہے۔ مارک بوچر کا کہنا ہے کہ اگر آئی سی سی مستقبل میں شائقین اور کھیل کی سالمیت دونوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے پاک بھارت میچ کے حوالے سے طے شدہ اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
