کولمبو:سری لنکن رکن پارلیمنٹ سجیت بریرا نے پاکستان اوربھارت کے کرکٹ میچ کے حوالے سےتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت میچ دیکھنے کےخواہش مندوں کی وجہ سے سری لنکا کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔
نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بریرا نے بھارت کے رویے کو غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت نامعلوم شرائط عائدکررہا ہے،جس کے باعث کرکٹ کی مقبولیت اور سیاحتی شعبے پر منفی اثر پڑرہا ہے۔انہوں نے 1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا آنے سے انکار کر دیا تھا، مگر پاکستانی ٹیم نے مقابلہ کیا اور ورلڈ کپ فائنل میں پاکستانی عوام نے سری لنکن ٹیم کی بھرپور حمایت کی۔
بریرا نے زور دیا کہ سیاست کو کرکٹ سے دور رکھا جانا چاہیے، اور بھارت سیاسی دباؤ کے تحت کھیل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ایک عوامی کھیل ہے اور اس میں سیاست کو شامل کرنا دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو خط لکھ کر بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ سری لنکن میڈیا کے مطابق پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان سے سری لنکا کے ٹورازم سیکٹر پر بھی منفی اثر پڑا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں فینز نے ہوٹلز کی بکنگ منسوخ کر دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ میچ نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف کرکٹ کی مقبولیت متاثر ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سے جڑی سیاحت اور مالی شعبے پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔
