لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈسٹرکٹ کورٹ لاہور نے گرفتار پانچ ملزمان کی صلح کی بنیاد پر ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ اگر ملزمان کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مقدمے کے مدعی کی جانب سے ملزمان کے ساتھ باقاعدہ صلح نامہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس واقعے پر سوشل میڈیا کے ذریعے اہم بیان جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے کے مدعی نے ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی میں یہ پیشرفت ممکن ہوئی۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے 85 لاکھ روپے جبکہ خاتون کے والد ساجد نے 25 لاکھ روپے وصول کیے، یوں مجموعی طور پر ایک کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم کے عوض صلح طے پائی۔ صلح کے بعد عدالت نے ملزمان کو ضمانت دے دی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب کھلا مین ہول شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوا، جس پر انتظامی غفلت اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم اب صلح کے بعد کیس نے قانونی طور پر ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک بار پھر شہری انفراسٹرکچر، حفاظتی انتظامات اور ذمہ داری کے تعین جیسے اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے، جن پر عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
