بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب طارق رحمان نے ملک کے نو منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ دارالحکومت ڈھاکا میں منعقدہ پروقار اور تاریخی تقریبِ حلف برداری میں ملکی و غیر ملکی سفارتکاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، سیاسی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کو نہ صرف ملکی میڈیا بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی خصوصی کوریج دی، جسے بنگلا دیش میں جمہوری تسلسل کی ایک علامتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر احسن اقبال نے شرکت کر کے نئی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جسے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حلف برداری سے قبل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر طارق رحمان کو قائدِ ایوان منتخب کیا، جس کے بعد ان کی وزارتِ عظمیٰ کی راہ باضابطہ طور پر ہموار ہوئی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مکمل اتفاقِ رائے سے کیا گیا، جسے قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کر کے واضح مینڈیٹ حاصل کیا تھا، جس نے ملک میں سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ مبصرین کے مطابق عوام نے معاشی اصلاحات، بہتر طرز حکمرانی اور سیاسی استحکام کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے بی این پی کو کامیاب بنایا۔
دوسری جانب بنگلا دیش کے عبوری سربراہ اور نوبیل امن انعام یافتہ رہنما محمد یونس نے قوم سے اپنے الوداعی خطاب میں عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار منتخب حکومت کے سپرد کر دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت نے آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا اور اب عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اقتدار نئی قیادت کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک میں جمہوریت، آزادیٔ اظہار، قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کا سفر مزید مضبوط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، تاہم قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا جانا چاہیے۔
سیاسی و معاشی ماہرین کے مطابق نئی حکومت کو متعدد اہم چیلنجز درپیش ہوں گے جن میں معاشی بحالی، مہنگائی پر قابو پانا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور علاقائی سفارتی تعلقات میں توازن قائم رکھنا شامل ہے۔ جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں نئی قیادت کو خارجہ پالیسی میں بھی محتاط اور متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پُرامن اور آئینی طریقے سے اقتدار کی منتقلی بنگلا دیش کی جمہوری تاریخ میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے، جو نہ صرف داخلی استحکام بلکہ عالمی سطح پر ملک کے وقار میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اب تمام نظریں طارق رحمان کی کابینہ کی تشکیل، ابتدائی پالیسی اعلانات اور سو روزہ ایجنڈے پر مرکوز ہیں، جن سے یہ اندازہ ہوگا کہ نئی حکومت عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔
