اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی بعد از گرفتاری ضمانتیں منظور کر کے قانونی کارروائی کے اہم مرحلے کو مکمل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سنایا، جس کے بعد دونوں ملزمان رہائی کے لیے اہل ہو گئے ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کیا گیا تھا، جس میں پولیس کے ساتھ جھگڑا اور احتجاج کے دوران مبینہ ہنگامہ آرائی شامل ہے۔ یہ مقدمہ اچانک منظرِ عام پر آیا، جس پر ملزمان نے اپنی بے گناہی کا مؤقف عدالت کے سامنے پیش کیا۔
ملزمان کی جانب سے پیش کردہ وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور کسی حقیقی واقعے کی بنیاد پر درج نہیں کیا گیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خود وہ اس ایف آئی آر میں شامل ملزم ہیں مگر دفاع کو اس کی اطلاع نہیں تھی، جس سے مقدمے کی اچانک نوعیت اور غیر شفافیت واضح ہوتی ہے۔
ریاست علی آزاد نے عدالت سے درخواست کی کہ تمام شواہد اور مقدمے کے حقائق کا بغور جائزہ لیا جائے اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ملزمان کو ریلیف فراہم کیا جائے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے فیصلہ سنایا اور ایمان مزاری و ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی دی جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف ملزمان کی فوری رہائی ممکن ہوئی بلکہ عدالتی عمل میں شفافیت اور بروقت انصاف کی مثال بھی قائم ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف کے نظام میں توازن اور قانونی عمل کی شفافیت کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ عدالت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بغیر مناسب شواہد اور حقائق کے کسی بھی شخص کی حراست طویل مدت تک نہ ہو، اور قانونی حقوق کا تحفظ برقرار رہے۔ایمان مزاری اور ہادی علی کی رہائی سے متعلق سماجی حلقوں میں بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں یہ قدم عدالتی عمل کی بروقت کارروائی اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔
اگرچہ ضمانت منظور ہو گئی ہے، لیکن مقدمے کی قانونی کارروائی آئندہ سماعتوں میں جاری رہے گی۔ عدالت فریقین کے مزید دلائل اور شواہد کی روشنی میں حتمی فیصلے تک پہنچے گی۔ اس دوران ملزمان ضمانت پر رہائی کے باوجود مقدمے میں اپنا دفاع کر سکیں گے اور قانونی عمل میں حصہ لے سکیں گے۔یہ معاملہ اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت کے کردار کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں کے باوجود شفاف اور بروقت فیصلے کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے، اور قانونی حقوق کے تحفظ کو مقدم رکھتی ہے۔
