امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے عالمی تجارت کےمنظرنامےکو ہلاکر رکھ دیاہے۔امریکی صدر نے ایک غیر متوقع اور فوری اقدام کرتے ہوئے تمام ممالک سے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام ابتدائی طور پر 150 دن کے لیے نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد ملکی صنعت کو تحفظ دینا اور تجارتی خسارے میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق بعض اہم شعبوں کو اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں معدنیات، کھاد، مختلف دھاتیں اور توانائی کے آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی نئی درآمدی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوگا تاکہ مقامی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ نہ بڑھے اور سپلائی چین متاثر نہ ہو۔
مزید برآں، یہ نیا ٹیرف امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان موجود تجارتی معاہدے پر لاگو نہیں ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے اندر تجارتی استحکام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں Supreme Court of the United States نے صدر کی جانب سے دوسرے ممالک پر عائد اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ جس قانون کے تحت یہ اقدامات کیے گئے، وہ دراصل قومی ایمرجنسی کی صورتحال کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کے تحت وسیع پیمانے پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ عدالت کے چند مخصوص اراکین کے فیصلے پر انہیں شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وقتی طور پر دنیا کو خوش کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں امریکا کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا اور امریکا اپنی معاشی خودمختاری مضبوط کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام عالمی تجارتی تعلقات میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔ اگرچہ 10 فیصد ڈیوٹی بظاہر محدود دکھائی دیتی ہے، مگر اس کا اطلاق تقریباً تمام ممالک پر ہونے کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ سکتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹس، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان سب اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امریکی صنعتکاروں اور مزدوروں کے مفاد میں ہے اور اس سے مقامی پیداوار کو فروغ ملے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں صارفین کو مہنگی اشیا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور تجارتی شراکت دار جوابی اقدامات بھی کر سکتے ہیں۔
150 دن کی اس عبوری مدت کے دوران یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ پالیسی مستقل شکل اختیار کرتی ہے یا عالمی دباؤ اور عدالتی پیچیدگیوں کے باعث اس میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔ فی الحال صدر ٹرمپ کے اس فیصلے نے عالمی تجارت کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں معاشی حکمت عملی اور قانونی دائرہ اختیار کے درمیان کشمکش مزید گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
