اسلام آباد میں پاکستان کسٹمز کی مختلف کلکٹریٹس میں اربوں روپے مالیت کا ضبط شدہ سونا اور چاندی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع نہ کرائے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے قومی خزانے اور مالیاتی شفافیت کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق Federal Board of Revenue (ایف بی آر) کی جانب سے تمام کسٹمز انفورسمنٹ یونٹس، بشمول ائیرپورٹ کلکٹریٹس، کو فوری طور پر ضبط شدہ سونا اور چاندی کا مکمل ریکارڈ اور ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں موجود قیمتی دھاتوں کی اصل مقدار، مالیت اور موجودہ حیثیت کا تعین کرنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق برسوں سے ضبط شدہ سونا اور چاندی مختلف کلکٹریٹس کی لاکرز میں ہی پڑا رہا اور اسے State Bank of Pakistan میں جمع نہیں کرایا گیا۔ اس غفلت کے باعث یہ قیمتی اثاثے قومی ذخائر میں شامل نہ ہو سکے اور نہ ہی سرکاری مالیاتی ریکارڈ میں ان کی مکمل عکاسی ہو سکی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض کلکٹریٹس میں انتظامی کمزوری اور مبینہ نااہلی کے باعث لاکرز میں موجود ضبط شدہ قیمتی دھاتوں میں ردوبدل اور چوری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس نے معاملے کی سنگینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ قومی اثاثوں کے تحفظ میں ایک بڑی کوتاہی تصور کی جائے گی۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق ضبط شدہ سونا اور چاندی بروقت اسٹیٹ بینک میں جمع نہ کرانا نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے قومی خزانے کو ممکنہ مالی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری آڈٹ، شفاف انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کے بغیر اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے اس معاملے پر اندرونی سطح پر چھان بین کا عمل تیز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ ابتدائی رپورٹ جلد اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی
