کراچی: سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی چوتھی قسط کے اجرا سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عالمی مالیاتی فنڈ کا وفد جائزہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کا مشن کراچی میں اسٹیٹ بینک پہنچا جہاں معاشی کارکردگی اور اہداف پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری سات ارب ڈالر کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی پروگرام کے تحت ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ کی جائے گی جس میں اسٹیٹ بینک کے ماہرین آئی ایم ایف وفد کو جولائی سے جنوری تک کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے۔ڈیٹا شیئرنگ سیشن میں زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، مانیٹری پالیسی، افراطِ زر، بینکنگ ریگولیشنز، اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی فنانسنگ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
آئی ایم ایف نے 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے خالص زرمبادلہ ذخائر 23 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ٹیکنیکل سیشنز میں جولائی تا دسمبر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حاصل کیے گئے اہداف کا جائزہ لیا جائے گا،ذرائع کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے منفی 0.6 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہےان اشاریوں کو آئی ایم ایف پروگرام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف کا وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ اس دوران ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تحت تیسرا اقتصادی جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ریزی لینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق دوسرے اقتصادی جائزے پر بھی مذاکرات ہوں گے۔ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر آر ایس ایف پروگرام کے تحت ملنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے بیشتر مقررہ اہداف حاصل کر لیے ہیں اور نئے مالی سال کے بجٹ سے قبل اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہو سکتی ہے۔
