لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے سرکاری اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے تاکہ تعلیمی معیار میں بہتری، انتظامی اصلاحات اور اسکولوں کی سہولتوں میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام حکومت کی تعلیم میں نجی شراکت داری کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے بلکہ طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنا بھی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع کے 2 ہزار 735 اسکولز نجی افراد کے ذریعے چلائے جائیں گے، اور نجی شعبے کے افراد اسکولز حاصل کرنے کے لیے 31 مارچ تک درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت منتخب افراد نہ صرف اسکول کے انتظامی امور سنبھالیں گے بلکہ تدریسی معیار اور سہولیات کو بھی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت نجی شعبے کی شراکت داری سے اسکولوں کی کلاس رومز کی حالت بہتر ہوگی، نصاب کی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت میں بہتری آئے گی، اور طلباء کے لیے جدید تعلیمی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ حکومت کی نگرانی اور معیار کی جانچ پڑتال کے نظام کے تحت یہ اقدام صوبے کے تعلیمی نظام میں ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہوگا۔
ماہرین تعلیم کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی نظام میں شفافیت اور مؤثریت آئے گی بلکہ سرکاری اسکولوں کی کمیونٹی میں اعتماد بھی بڑھے گا۔ نجی شعبے کی شمولیت سے تعلیمی اداروں میں انتظامی اصلاحات، جدید تدریسی طریقہ کار اور طلباء کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری متوقع ہے، جو پنجاب کے تعلیمی منظرنامے کو مثبت طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
