افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع پاکستانی فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج کے “مخصوص حلقے” کی جانب سے بار بار سرحدی سرکشی اور تمرد کے جواب میں یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔
طالبان کا مؤقف کیا ہے؟
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ آپریشن ان پاکستانی فوجی یونٹس کے خلاف ہے جو مبینہ طور پر افغان حدود میں نقل و حرکت یا طالبان حکومت کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ طالبان قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ طالبان نے پاکستان پر سرحدی مداخلت کا الزام لگایا ہو۔ گزشتہ برس بھی دونوں اطراف سے سرحدی خلاف ورزیوں اور فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جس سے تعلقات میں نمایاں تناؤ پیدا ہوا تھا
ڈیورنڈ لائن طویل عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک حساس اور متنازع سرحدی لکیر رہی ہے۔ پاکستان اسے بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے جبکہ افغانستان کی مختلف حکومتیں اس پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
حالیہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی علاقوں خصوصاً کرم، طورخم اور دیگر مقامات پر سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی نازک ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق اگر یہ آپریشن وسیع پیمانے پر جاری رہتا ہے تو سرحدی علاقوں میں جھڑپوں کے مزید امکانات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی کشیدگی میں اضافہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔خطے میں دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
افغان طالبان کی داخلی سیکیورٹی اور کنٹرول کے حوالے سے بھی نئے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔علاقائی طاقتیں، خصوصاً چین اور وسطی ایشیائی ممالک، صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی کے لیے فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
طالبان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ فوجی مراکز کے خلاف آپریشن کا اعلان خطے میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع کو بھی فعال رکھا جائے تاکہ سرحدی تنازع کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
