اسلام آباد میں ملک کے اہم آبی منصوبے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں قائم کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوئی تو یہ صورت حال ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ معاملہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم منصوبوں کی عمل درآمد کمیٹی کے ایک اہم اجلاس میں زیر غور آیا۔ اجلاس کی صدارت واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد سعید نے کی۔ اجلاس میں دونوں بڑے آبی منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران منصوبے کے دو نہایت اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں زمین کے حصول کا عمل اور تعمیراتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں شامل ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ڈیم کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے مقامی آبادی اور متعلقہ صوبائی حکام سے اپیل کی کہ وہ قومی اہمیت کے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے بھرپور تعاون کریں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کے حصول کے عمل کو تیز کیا جائے اور تعمیراتی کام میں رکاوٹ بننے والے تمام معاملات کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم منصوبہ ہے۔ اس ڈیم کی تکمیل سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، زرعی شعبے کو فائدہ پہنچے گا اور بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر منصوبے میں مزید تاخیر ہوئی تو اس کے اثرات ملکی معیشت، زرعی پیداوار اور توانائی کی ضروریات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے تمام متعلقہ اداروں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان تعاون کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس قومی منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔
