وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب غیرملکی شہریوں اور بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی اس سہولت کے ذریعے سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔
اس فیصلے کے مطابق غیرملکی سرمایہ کار روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے حکومتی مالیاتی دستاویزات میں سرمایہ کاری کر سکیں گے، جس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان ایک مضبوط اور پرکشش سرمایہ کاری مرکز کے طور پر مزید ابھرے گا۔
یہ اقدام مالیاتی منڈیوں کو عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ کی ایک اہم کڑی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ مالیاتی نظام میں شفافیت اور اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ رواں سال یہ حجم 42 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا میں ترسیلاتِ زر حاصل کرنے والے ممالک میں پانچویں جبکہ جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بغیر پاکستان آئے بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور مختلف مالیاتی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں اس منصوبے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
فروری کے اختتام تک نو لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جبکہ ان میں مجموعی سرمایہ کاری بارہ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس منصوبے پر اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
وزیرِاعظم نے وزیرِ خزانہ، اسٹیٹ بینک اور متعلقہ بینکوں کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرے گا اور مالیاتی منڈیوں کو وسعت دے گا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کو شفاف، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
