پاکستان میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ایسا جذبہ ہے جو قوم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے، اور جب بات پاکستان سپر لیگ کی ہو تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان سپر لیگ کی مختلف ٹیموں کے مالکان نے ایک مشترکہ آواز کے ساتھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ اسٹیڈیمز کو شائقین کے لیے کھولا جائے تاکہ اس کھیل کی رونق دوبارہ بحال ہو سکے۔
اس سلسلے میں فرنچائز مالکان نے اپنے اپنے انداز میں سوشل میڈیا کے ذریعے وزیر اعظم شہباز شریف تک اپنی بات پہنچائی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میدانوں میں تماشائیوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کی اصل خوبصورتی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اسٹیڈیم میں موجود شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہر چوکے، چھکے اور وکٹ پر ان کا جوش و خروش فضا کو گرما دیتا ہے۔
لاہور قلندرز کے سربراہ عاطف رانا نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سپر لیگ دراصل پاکستانی کرکٹ کا تہوار ہے، لیکن اگر اس میں شائقین شامل نہ ہوں تو یہ خوشی ادھوری رہ جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ عوام کو اس خوشی میں شریک ہونے کا موقع دیا جائے تاکہ کھیل کی اصل روح برقرار رہ سکے۔
اسی طرح ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ نے بھی اپنے پیغام میں واضح کیا کہ تمام ٹیمیں اس بات پر متفق ہیں کہ شائقین کی واپسی نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ صرف میدان میں موجود کھلاڑیوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس میں عوام کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
راولپنڈی کی نمائندگی کرنے والی ٹیم کے مالک احسن طاہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ اور شائقین ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ پاکستان میں کرکٹ عوام کی ملکیت ہے اور اس کی اصل طاقت ان لوگوں سے ہی آتی ہے جو اسے دل سے چاہتے ہیں اور ہر میچ میں بھرپور انداز میں اپنی ٹیم کا ساتھ دیتے ہیں۔
پشاور زلمی کے سربراہ جاوید آفریدی نے بھی اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان سپر لیگ نہ صرف ایک کھیل بلکہ قومی یکجہتی کی علامت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، اور شائقین کی موجودگی اس اتحاد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مالک علی نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ میدان میں موجود تماشائیوں کی توانائی ہی دراصل لیگ کی جان ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب اسٹیڈیم خالی ہوتے ہیں تو نہ صرف کھلاڑیوں کا جذبہ متاثر ہوتا ہے بلکہ ناظرین کے لیے بھی کھیل کا لطف کم ہو جاتا ہے۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ٹیم کے مالک فواد سرور نے بھی اس حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلے میچ کے دوران شائقین کی عدم موجودگی نے ایک خلا پیدا کر دیا تھا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ دوبارہ وہی ماحول دیکھنے کو ملے جب ہر اچھی کارکردگی پر پورا اسٹیڈیم تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔
دوسری جانب کراچی کی ٹیم کے مالک نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خالی اسٹیڈیم دیکھنا کسی بھی کرکٹ سے محبت کرنے والے کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق شائقین ہی وہ عنصر ہیں جو اس کھیل کو زندہ رکھتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں مقابلے اپنی کشش کھو بیٹھتے ہیں۔
تمام فرنچائز مالکان کی آواز ایک ہی سمت میں جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ پاکستان سپر لیگ کو اس کی اصل شان کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے شائقین کی شرکت ناگزیر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مناسب انتظامات اور حفاظتی تدابیر کے ساتھ اسٹیڈیمز کو کھولا جا سکتا ہے تاکہ عوام بھی اس قومی جذبے کا حصہ بن سکیں۔
پاکستان میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک اجتماعی خوشی ہے، جس میں ہر فرد شریک ہونا چاہتا ہے۔ اب یہ فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس عوامی خواہش کو کس طرح عملی جامہ پہناتی ہے، تاہم یہ بات طے ہے کہ اگر شائقین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت ملتی ہے تو پاکستان سپر لیگ کی رونقیں ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ جائیں گی۔
