اسلام آباد: معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن اور سوشل میڈیا پر مقبول شخصیت ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف جاری ایف آئی اے کی تحقیقات سے خود کو مکمل طور پر لاتعلق قرار دے دیا ہے۔
حمزہ علی عباسی نے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا کہ میڈیا میں ان کا نام ان کی بہن کے الزامات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، جو حقیقت کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی ادارے کی جانب سے جاری تحقیقات کا سامنا نہیں کر رہے اور نہ ہی اس کیس میں کسی بھی حیثیت میں فریق ہیں۔
اداکار نے اپنے بیان میں مزید کہا، ’’میری بہن ایک انتہائی کامیاب پروفیشنل خاتون ہیں۔ وہ میرا خاندان ہیں اور اس مشکل وقت میں میری محبت اور حمایت ان کے ساتھ ہے، لیکن ان کے پیشہ ورانہ اور قانونی معاملات مجھ سے بالکل الگ ہیں۔‘‘ حمزہ علی عباسی نے میڈیا سے درخواست کی کہ آئندہ ان کا نام اس کیس سے نہ جوڑا جائے، بصورتِ دیگر وہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف اڑھائی ارب روپے کے مشکوک لین دین اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت جاری تحقیقات کو روکنے اور مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جسٹس خادم حسین نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
تاہم عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کو جزوی ریلیف بھی دیا، جس کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت لگائے گئے الزامات اور انکوائری کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا گیا۔ اب ان کے خلاف تحقیقات صرف فارن ایکسچینج قوانین کے دائرہ کار تک محدود رہیں گی۔
عدالتی محاذ پر مشکلات میں اضافہ اس وقت ہوا جب اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ درخواست مسترد ہونے کے بعد ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
حمزہ علی عباسی نے اپنے بیان کے اختتام میں امید ظاہر کی کہ ادارے انصاف کے تقاضے پورے کریں گے اور سچ سامنے آئے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کیس عدالت میں ہونے کی وجہ سے اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
