گوجرانوالہ کی ایک باہمت اور انسان دوست خاتون نے ایسے وقت میں ایثار و قربانی کی مثال قائم کی ہے جب دنیا مفادات اور سیاست کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ خاتون نے اپنی وہ جمع پونجی، جو انہوں نے برسوں کی محنت سے اپنے گھر کی تعمیر کیلئے جمع کی تھی، ایران کے متاثرہ عوام کیلئے عطیہ کر دی۔
خاتون کے اس فیصلے کے پیچھے حالیہ علاقائی کشیدگی اور امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی انسانی صورتحال کارفرما ہے، جس نے انہیں گہرائی سے متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے معصوم بچوں اور بے گھر خاندانوں کی تصاویر دیکھیں تو وہ خاموش نہ رہ سکیں اور اپنے ذاتی خواب کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کو ترجیح دی۔
ذرائع کے مطابق خاتون نے اپنی یہ امدادی رقم لاہور میں قائم خانہ فرہنگ ایران میں جمع کروائی، جہاں سے اسے براہِ راست متاثرین تک پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ یہ رقم ایرانی بچوں کی خوراک، کپڑوں اور بنیادی ضروریات پر خرچ کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کچھ کمی لائی جا سکے۔
خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ وقت آزمائش کا ہے، یہ حق اور باطل کا معرکہ ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ مظلوم انسانوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر ہم آج ان کا ساتھ نہیں دیں گے تو انسانیت کا کیا مطلب رہ جائے گا؟”
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ گھر بنانا ان کا ایک بڑا خواب تھا، لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت انسانوں کی جان بچانا اور ان کی مدد کرنا ہے۔ “گھر تو بعد میں بھی بن سکتا ہے، لیکن کسی کی زندگی بچانے کا موقع بار بار نہیں ملتا،” خاتون نے جذباتی انداز میں کہا۔
سماجی حلقوں میں اس عمل کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت زندہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف متاثرہ افراد کیلئے امید کی کرن بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں ہمدردی، یکجہتی اور قربانی کے جذبے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ عام شہری بھی بڑے انسانی بحرانوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور ایک فرد کا چھوٹا سا قدم بھی ہزاروں زندگیوں میں روشنی لا سکتا ہے۔
