ادارہ شماریات پاکستان نے تجارتی اعداد و شمار سے متعلق نئی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 23 فیصد بڑھ کر 28 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ خسارہ 22.67 ارب ڈالرز تھا، جو اب نمایاں حد تک بڑھ چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں برآمدات میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور مجموعی برآمدات کا حجم 22.73 ارب ڈالرز رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں برآمدات 24.72 ارب ڈالرز تھیں۔ اس کے برعکس درآمدات میں 6.64 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم بڑھ کر 50.54 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال 47.39 ارب ڈالرز تھا۔
مارچ 2026 کے ماہانہ اعداد و شمار بھی معیشت کیلئے زیادہ حوصلہ افزا ثابت نہیں ہوئے۔ اس ماہ برآمدات میں 14.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور برآمدات 2.26 ارب ڈالرز رہیں، جبکہ مارچ 2025 میں یہ 2.64 ارب ڈالرز تھیں۔
دوسری جانب مارچ 2026 میں درآمدات 4.99 ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئیں، جس کے نتیجے میں اس ماہ کا تجارتی خسارہ 2.73 ارب ڈالرز تک جا پہنچا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.71 فیصد زیادہ ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فروری کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں 9.36 فیصد کمی دیکھی گئی، جو کسی حد تک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کیلئے تشویش ناک رجحان ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر اور صنعتی پیداوار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات بڑھانے اور درآمدات کو کنٹرول کرنے کیلئے مؤثر پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عام شہری تک مہنگائی اور معاشی دباؤ کی صورت میں منتقل ہوں گے۔
