وفاقی دارالحکومت اور ملک کے دیگر شہروں میں ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اور ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مریضوں اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس نے علاج معالجے کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ انجکشنز، ویکسینز، اینٹی الرجی اور درد کش ادویات کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، اینٹی الرجی اور درد کش ادویات اب 300 سے 330 روپے تک مہنگی دستیاب ہیں، جبکہ پہلے یہ نسبتاً کم قیمت پر دستیاب تھیں۔
اسی طرح بچوں کے لیے سیرپ اور دیگر ادویات بھی مہنگی ہو چکی ہیں، جس سے والدین کی مالی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیرمعمولی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہو رہا ہے، اور کئی افراد اپنی بیماریوں کا بروقت علاج نہیں کر پا رہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ادویات ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کرے اور قیمتوں میں کمی کو یقینی بنائے تاکہ علاج معالجہ ہر فرد کی دسترس میں رہے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف صحت کے شعبے پر دباؤ بڑھا رہی ہیں بلکہ ملک میں صحت عامہ کے بنیادی نظام کی فعالیت پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
