ایران اور خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے اثرات اب صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حساس اور اہم شعبے—مانع حمل مصنوعات—کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ بھارت میں کنڈوم کی تیاری اور فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے، جس نے صحت عامہ کے ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق کنڈوم کی تیاری میں استعمال ہونے والے بنیادی خام مال جیسے امونیا، سلیکون آئل اور لیٹیکس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی لاجسٹک نظام میں خلل اور شپنگ تاخیر کے باعث یہ اشیا بروقت فیکٹریوں تک نہیں پہنچ پا رہیں، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔
HLL Lifecare Limited، جو بھارت میں کنڈوم کی پیداوار کا تقریباً نصف فراہم کرتی ہے، نے خبردار کیا ہے کہ پیکیجنگ میٹریل، کیمیکلز اور دیگر ضروری اجزا کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹ آئندہ دنوں میں پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔ کمپنی سالانہ تقریباً دو ارب کنڈوم تیار کرتی ہے اور درجنوں ممالک کو برآمد بھی کرتی ہے، اس لیے اس بحران کے عالمی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
لاجسٹکس کے ماہرین کے مطابق سمندری راستوں میں تبدیلی، خاص طور پر کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے طویل سفر، ترسیل کے وقت کو 20 دن تک بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش نے کارگو کی رفتار اور گنجائش دونوں کو محدود کر دیا ہے، جس سے تیار شدہ سامان کی ترسیل بھی سست ہو گئی ہے۔
Population Foundation of India کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پونم متریجا کے مطابق کنڈوم کی قیمتوں میں اضافہ یا قلت صرف ایک تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ صحت عامہ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر رسائی کم ہوئی تو غیر منصوبہ بند حمل میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایڈز و دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح Cupid Limited کے حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ خام مال کی بڑھتی قیمتیں اور برآمدی مشکلات انڈسٹری کو سخت دباؤ میں لا رہی ہیں۔ کمپنی کے مطابق وہ اپنی پیداوار کا بڑا حصہ بیرونِ ملک بھیجتی ہے، مگر موجودہ صورتحال میں شپنگ سہولیات کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران ایک “ڈومینو ایفیکٹ” کی مثال ہے، جہاں جنگی کشیدگی پہلے توانائی، پھر معیشت اور اب صحت و سماجی شعبوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف قیمتیں بڑھیں گی بلکہ کنڈوم کی دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
یوں ایک علاقائی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام انسان کی زندگی کے نہایت ذاتی اور بنیادی پہلوؤں تک بھی پہنچ جاتے ہیں
