امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو جنگ میں فاتح قرار دیتے ہوئے ایک نیا اور متنازع خیال پیش کیا ہے، جس کے تحت امریکا اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ کے بعد امریکا اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کے امکان کا جائزہ لے سکتا ہے، جس کے لیے ممکنہ طور پر اس علاقے پر براہِ راست امریکی فوجی کنٹرول درکار ہوگا۔
ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایران کو اس گزرگاہ سے ٹول لینے کی اجازت دی جائے گی، واضح طور پر کہا: “ہم خود ٹول کیوں نہ لیں؟ میں یہ زیادہ پسند کروں گا بجائے اس کے کہ ہم انہیں لینے دیں، ہم کیوں نہیں لے سکتے؟ ہم فاتح ہیں، ہم جیت گئے ہیں۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، ایسے میں اس پر کسی ایک ملک کا کنٹرول یا ٹول ٹیکس کا نفاذ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان بین الاقوامی قوانین، سمندری آزادی اور عالمی طاقتوں کے درمیان نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے
