ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔
شپنگ ذرائع کے مطابق خلیج میں موجود متعدد جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور وہاں کی صورتحال کو الگ طور پر دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی موجودگی کے باعث لبنان کو معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا۔
ادھر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اسرائیل نے مختلف علاقوں میں صرف 10 منٹ کے اندر 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ جنوبی شہر طائر سمیت کئی علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی دھمکیاں دے کر فضائی حملے کیے گئے۔
لبنانی ریڈ کراس کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 89 افراد شہید اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک قبرستان میں جنازے میں شریک افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ سیاسی قیادت کی ہدایت پر ایران پر حملے وقتی طور پر روک دیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور لبنان میں بڑھتی ہوئی جنگی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں، کیونکہ اس اہم بحری راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment