کمپالا: افریقی ملک یوگنڈا میں ایک غیر معمولی اور حیران کن سفارتی تنازع اس وقت سامنے آیا جب ملک کے فوجی سربراہ اور صدر کے صاحبزادے جنرل مہوزی کائنرو گابا نے ترکیہ سے نہ صرف ایک ارب ڈالر بلکہ شادی کے لیے "خوبصورت ترین خاتون” فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنرل مہوزی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکیہ نے 30 دن کے اندر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو یوگنڈا سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کر سکتا ہے، جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں شدید حیرت اور تشویش پیدا کر دی ہے۔
جنرل مہوزی کا مؤقف ہے کہ ترکیہ صومالیہ میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے منصوبوں سے بھاری مالی فوائد حاصل کر رہا ہے، جبکہ ان منصوبوں کی سیکیورٹی یوگنڈا کی فوج فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یوگنڈا کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس لیے ترکیہ کو مالی معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
غیر معمولی شرط نے دنیا کو حیران کر دیا،تاہم اس بیان کا سب سے حیران کن پہلو وہ شرط تھی جس میں جنرل مہوزی نے ترکیہ سے اپنے لیے شادی کے لیے ایک دلہن فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو نتائج کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
ساتھ ہی انہوں نے یوگنڈا کے شہریوں کو ترکیہ کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ جنرل مہوزی اس سے قبل بھی اپنے متنازع اور غیر روایتی بیانات کے باعث خبروں میں رہ چکے ہیں۔ ماضی میں وہ اسرائیل کی حمایت اور امریکا سے مالی مطالبات جیسے بیانات دے کر عالمی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق یوگنڈا کی افواج گزشتہ دو دہائیوں سے صومالیہ میں شدت پسند گروپ الشباب کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، اور جنرل مہوزی کے حالیہ بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں وہ اپنے ملک کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان سفارتی دباؤ ڈالنے کی ایک غیر روایتی کوشش ہو سکتا ہے، تاہم "دلہن” جیسی شرط نے اس معاملے کو سنجیدہ سفارتی تنازع کے بجائے ایک غیر معمولی اور متنازع واقعہ بنا دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکیہ اس بیان پر کیا ردعمل دیتا ہے اور آیا یہ تنازع واقعی سفارتی سطح تک پہنچتا ہے یا محض ایک بیان تک محدود رہتا ہے۔
