معروف گلوکارہ قرۃ العین بلوچ، جنہیں شائقین موسیقی میں “کیو بی” کے نام سے پہچانا جاتا ہے، حال ہی میں میزبان توصیق حیدر کے ایک پروگرام میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے شادی کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس گفتگو کے بعد ان کے بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے اور ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا جس میں شادی کے ادارے کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔
پروگرام کے دوران جب میزبان نے ان سے شادی سے متعلق سوال کیا تو گلوکارہ نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض مطالعات کے مطابق مردوں کو شادی سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے جبکہ خواتین کی خوشی کی سطح نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق اسی تحقیق میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ شادی کے بعد خواتین اکثر زیادہ اطمینان محسوس نہیں کرتیں۔ اس موقف کی بنیاد پر انہوں نے ذاتی رائے دیتے ہوئے شادی کو وقت کے ضیاع سے تعبیر کیا، جس نے ناظرین اور آن لائن صارفین کی توجہ فوراً اپنی جانب مبذول کر لی۔
یہ بیان سامنے آتے ہی مختلف حلقوں میں بحث چھڑ گئی اور سوشل میڈیا صارفین نے اس پر متضاد ردعمل دینا شروع کر دیا۔ کچھ افراد نے ان کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کس قسم کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ کن معاشروں اور کس دور کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ایسے عمومی بیانات کو بغیر واضح شواہد کے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے اس تحقیق کو غیر ملکی نظریات سے متاثر قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ ماضی میں ایسی باتوں کو حقیقت سمجھا جاتا رہا ہے لیکن آج کے دور میں ان تصورات کو دوبارہ پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معلومات کو بغیر تنقید کے قبول نہیں کرنا چاہیے اور ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر کچھ ردعمل نسبتاً ہلکے پھلکے انداز میں بھی سامنے آئے۔ کئی صارفین نے کہا کہ اگر کوئی شخص شادی نہ کرنا چاہے تو یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے، لیکن اس کے لیے “تحقیق” کا حوالہ دینا غیر ضروری محسوس ہوتا ہے۔ کچھ نے مزاحیہ انداز میں اس بحث کو سراہا جبکہ دیگر نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ شادی بذات خود مسئلہ نہیں بلکہ غلط توقعات اور جذباتی مسائل اصل پیچیدگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صحیح ساتھی کے ساتھ شادی ایک مثبت تجربہ بھی ہو سکتی ہے۔
اسی بحث کے دوران کئی افراد نے گلوکارہ کے مؤقف کا دفاع بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اور اگر کسی نے ذاتی تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر کوئی بات کہی ہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے قبول کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ قرۃ العین بلوچ اس سے پہلے بھی شادی کے موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کر چکی ہیں۔ ایک سابقہ پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں اپنی شخصیت کے مطابق کوئی ہم آہنگ ساتھی نہیں ملا۔ ان کے اس بیان نے بھی اس وقت خاصی توجہ حاصل کی تھی اور عوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آئی تھیں۔
اسی طرح میزبان توصیق حیدر نے بھی ماضی میں شادی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کو زندگی کا لازمی مرحلہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے ایک ذاتی انتخاب کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ہر فرد کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے اور شادی بھی انہی فیصلوں میں سے ایک ہے۔
یہ پورا معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے میں شادی کے ادارے کے بارے میں مختلف تصورات موجود ہیں اور جدید دور میں لوگ اس موضوع پر زیادہ کھل کر اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔
