پاکستان میں پہلی بار لائیو اسٹاک انشورنس اسکیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد مویشی پال کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
WWF-Pakistan کے ترجمان کے مطابق اس اسکیم کا آغاز کراچی میں شراکت دار انشورنس کمپنی کے تعاون سے کیا گیا، جبکہ اس کا ابتدائی نفاذ گلیات کے علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت مویشیوں کی باقاعدہ ٹیگنگ کی جائے گی تاکہ نقصانات کی درست نگرانی اور بروقت معاوضہ ممکن بنایا جا سکے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ان کسانوں کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے جن کے مویشی جنگلی جانوروں، خصوصاً برفانی تیندووں، کے حملوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے جنگلی حیات کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو بھی روکا جا سکے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف خنجراب کے علاقے میں 2023 کے دوران مویشیوں پر حملوں کے 499 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2015 سے 2023 کے درمیان انتقامی کارروائیوں میں 6 نایاب برفانی تیندوے ہلاک کیے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ انشورنس ماڈل خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں رہنے والی غریب برادریوں کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے نہ صرف ان کے مالی نقصانات کا ازالہ ہوگا بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور انسان و فطرت کے درمیان توازن قائم رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
