ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسکائی نیوز کے مطابق ٹرمپ نے ایک فون انٹرویو میں کہا کہ “ہم نے برطانیہ کو ایک بہت اچھا تجارتی معاہدہ دیا، شاید اس سے بھی بہتر جتنا ہمیں دینا چاہیے تھا، اور اسے کسی بھی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔” یہ گفتگو امریکی رپورٹر مارک اسٹون کے ساتھ ہوئی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران جنگ کے معاملے پر برطانیہ کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لندن نے مطلوبہ سطح پر تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔
تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود شاہ چارلس سوم کے متوقع دورۂ امریکا پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال لندن اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے تحت زیادہ تر برطانوی مصنوعات پر امریکی ٹیرف کو 10 فیصد تک محدود کر دیا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں برطانیہ نے اپنی منڈیوں کو امریکی ایتھنول اور بیف کے لیے مزید کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جس پر برطانیہ میں کچھ حلقوں نے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو نہ صرف دونوں ممالک کی تجارت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ نیٹو اتحادیوں کے درمیان سیاسی اعتماد بھی متاثر ہونے کا امکان ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment