پاکستان کی معیشت کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے ملک میں جاری معاشی اصلاحات اور پروگرام پر عملدرآمد کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جس انداز میں مالیاتی پروگرام پر سنجیدگی سے عمل کیا ہے، اس نے نہ صرف معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر اعتماد کی فضا بھی قائم کی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن میں ہونے والے عالمی مالیاتی اداروں کے بہاری اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کی سربراہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط پالیسیوں اور مؤثر عملدرآمد کے باعث پاکستان اپنی معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب رہا ہے، جو موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تازہ عالمی اقتصادی جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی آئندہ مالی سال کے لیے شرح نمو کو 3.6 فیصد برقرار رکھا گیا ہے۔ اگرچہ یہ شرح حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم ہے، تاہم عالمی معیشت میں سست روی اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس کمی کو ایک حقیقت پسندانہ تخمینہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی حالات نے ترقی پذیر ممالک کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے۔
اسی تناظر میں عالمی درجہ بندی کے ادارے فِچ ریٹنگز نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، خسارے کو کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے ہیں جو آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف ملک کی مالی صلاحیت کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔
مارچ کے اختتام پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان عملے کی سطح پر ایک معاہدہ طے پایا، جو آئندہ مالی معاونت کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جس کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جبکہ دو سو دس ملین ڈالر ماحولیاتی اور پائیداری سے متعلق سہولت کے تحت حاصل ہوں گے۔
اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر کی مالی معاونت مل چکی ہے، جو معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سات ارب ڈالر کے اس وسیع پروگرام کے تحت پاکستان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی مالیاتی پالیسی کو محتاط اور اعداد و شمار کی بنیاد پر رکھے تاکہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھا جا سکے اور بیرونی کھاتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے اپنے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے صرف قلیل مدتی اقدامات کافی نہیں بلکہ گہرے ساختیاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ضروری ہے جو نہ صرف معیشت کو مستحکم کریں بلکہ عام شہریوں کی فلاح و بہبود میں بھی اضافہ کریں۔ یہ اشارہ اس بات کی جانب تھا کہ پاکستان کو طویل مدتی اقتصادی بہتری کے لیے اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔
پاکستان کی وزارت خزانہ نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو سراہا جانا ایک مثبت اشارہ ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی محتاط مالیاتی حکمت عملی اور اصلاحاتی اقدامات درست سمت میں جا رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں جب عالمی معیشت کئی چیلنجز سے دوچار ہے، پاکستان کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے۔ مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، اور بیرونی ادائیگیاں جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں، تاہم عالمی اداروں کی جانب سے اعتماد کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک درست سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔
مزید برآں، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط پاکستان کو نہ صرف فوری مالی سہارا فراہم کرتے ہیں بلکہ اسے عالمی منڈیوں میں بہتر رسائی بھی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اصلاحات کا تسلسل، شفاف حکمرانی، اور مالیاتی نظم و ضبط مستقبل میں پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
یہ تمام عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت ایک نازک مگر بہتری کی جانب گامزن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عالمی اعتماد، داخلی اصلاحات، اور بیرونی معاونت مل کر ایک مستحکم اقتصادی ڈھانچہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
