اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی وصولی میں غیر معمولی اضافے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران 180 ارب روپے سے زائد رقم عوام سے اس مد میں وصول کی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1 ہزار 234 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں قومی خزانے میں جمع کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 400 ارب روپے زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں 157 ارب روپے، اگست میں 103 ارب 46 کروڑ روپے، ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ روپے اور اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی۔ اسی طرح نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ روپے جبکہ دسمبر میں سال کی سب سے زیادہ ماہانہ وصولی 162 ارب 46 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
مزید تفصیلات کے مطابق جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے اور مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جبکہ اپریل کے ابتدائی 15 دنوں میں اب تک 38 ارب روپے سرکاری خزانے میں آ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں یہ نمایاں اضافہ حکومت کے ریونیو اہداف پورے کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی اور اخراجات زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ وصولیاں مالیاتی استحکام کے لیے مثبت سمجھی جا رہی ہیں، لیکن طویل مدت میں حکومت کو ایسے متوازن اقدامات کی ضرورت ہوگی جو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریونیو اہداف بھی برقرار رکھ سکیں۔
