امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت جمعے کی صبح بڑھ کر 106.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو بدھ کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے قبل قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی عبور کر چکی تھی۔
عرب میڈیا کے مطابق کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث اس راستے پر جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو امریکی بحریہ کی اجازت درکار ہوگی، جبکہ ایرانی کشتیوں کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی صورت میں انہیں تباہ کرنے کی وارننگ بھی دی گئی ہےدوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دو غیر ملکی کارگو جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم یونان نے ان میں سے ایک جہاز کے قبضے میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق بدھ کے روز صرف 9 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے قبل یومیہ اوسطاً 129 جہاز اس اہم راستے سے گزرتے تھے، جو موجودہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
