دنیا کی معروف ٹیک کمپنی اسپیس ایکس نے پاکستانی نژاد نوجوان صالح آصف کی مشترکہ قائم کردہ مصنوعی ذہانت کمپنی کرسر کے لیے 60 ارب ڈالر کی ممکنہ خریداری کی پیشکش کر دی ہے، جسے عالمی ٹیک انڈسٹری کی بڑی ڈیلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ شراکت داری کے تحت اسپیس ایکس اور کرسر مل کر جدید کوڈنگ اور تعلیمی مقاصد کے لیے ایک نیا مصنوعی ذہانت ماڈل تیار کریں گے۔ اس مقصد کے لیے اسپیس ایکس اپنے جدید سپر کمپیوٹر "کولوسس” تک کرسر کے انجینئرز کو رسائی فراہم کرے گی، جس سے بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈلز کی تیاری ممکن ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق صالح آصف نے ایم آئی ٹی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کمپنی کی بنیاد رکھی، جو تیزی سے دنیا کی نمایاں ابھرتی ہوئی اے آئی کمپنیوں میں شامل ہو چکی ہے۔ کمپنی کے کوڈ جنریشن ٹولز کو انوڈیا، اوبر اور ایڈوبی سمیت 50 ہزار سے زائد ادارے استعمال کر رہے ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے تحت اسپیس ایکس کے پاس سال کے اختتام تک کرسر کو مکمل طور پر خریدنے کا اختیار ہوگا، جبکہ ایک متبادل آپشن کے طور پر باہمی تعاون کے بدلے 10 ارب ڈالر کی ادائیگی بھی زیرِ غور ہے۔
فوربز کی رپورٹ کے مطابق کرسر کی سالانہ آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ نومبر 2025 تک کمپنی کی مالیت 29.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو اس کی تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ صالح آصف کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ ماضی میں بین الاقوامی میتھ اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے تو مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے میدان میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جبکہ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا
