اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں سمیت متعدد آئینی و انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججز کے تبادلوں کی تجاویز زیرِ بحث آئیں اور باقاعدہ فیصلے کیے گئے۔ کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ کرنے کی منظوری دے دی، جبکہ جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اسی طرح جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا تبادلہ سندھ ہائی کورٹ منظور کر لیا گیا، جسے عدالتی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے تبادلوں سے متعلق درخواستیں بعد ازاں واپس لے لی گئیں۔ اجلاس میں متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی شرکت کی اور مختلف تجاویز پر تفصیلی مشاورت کی۔
جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ججز کے تبادلوں کے باعث خالی ہونے والی نشستوں کو نئی تقرریوں کے بجائے انہی تبادلوں کے ذریعے پُر کیا جائے گا، تاکہ عدالتی توازن اور ادارہ جاتی تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلے عدالتی ڈھانچے میں توازن پیدا کرنے اور مختلف ہائی کورٹس کے درمیان تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے، تاہم ان تبادلوں کے اثرات آئندہ عدالتی کارکردگی میں واضح طور پر سامنے آئیں گے
