اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف اہم کامیابی کے بعد حیدرآباد کنگز کے فاسٹ بولر حنین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی کارکردگی، محنت اور ٹیم کی حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کی گفتگو میں اعتماد، محنت کا اعتراف اور ٹیم اسپرٹ نمایاں طور پر جھلک رہی تھی، جس نے نہ صرف اس میچ بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی کو خاص بنا دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران حنین شاہ نے سب سے پہلے آنے والے فائنل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا فوکس اس بات پر ہے کہ سادہ اور واضح حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے اور یہی ٹیم کی اصل طاقت ہے۔ ان کے مطابق اسکواڈ میں شامل ہر فرد میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اجتماعی کارکردگی ہی کامیابی کی کنجی ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ٹیم اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ مرحلے میں بھی بہترین کھیل پیش کرے گی۔
اپنی ذاتی کارکردگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے میدان میں اترتے وقت صرف ایک ہی مقصد رکھا کہ اپنی پوری توانائی اور توجہ کے ساتھ کھیلنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سو فیصد دے، اور انہوں نے بھی یہی اصول اپنایا۔ ان کے مطابق وہ اپنے طے شدہ منصوبے پر قائم رہے اور اسی پر عمل کرتے ہوئے انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔ انہوں نے اس کامیابی کو اللہ کی مہربانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ محنت کے ساتھ ساتھ یقین اور دعا بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے گزشتہ چند مہینوں کی محنت کو اپنی کارکردگی کی بنیاد قرار دیا۔ حنین شاہ کے مطابق انہوں نے چھ سے سات ماہ مسلسل محنت کی اور اپنے کھیل کو بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دی۔ اس دوران انہیں انجری کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس نے ایک مشکل مرحلہ پیدا کیا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کا کہنا تھا کہ انجری کے بعد واپسی آسان نہیں ہوتی، لیکن انہوں نے اپنے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے سخت محنت جاری رکھی۔ ان کے مطابق انہوں نے اس پورے عرصے میں پی ایس ایل کو اپنا ہدف بنایا ہوا تھا اور اسی کے لیے خود کو تیار کیا۔
حنین شاہ نے اپنی کامیابی میں سینئر کھلاڑیوں کے کردار کو بھی سراہا، خاص طور پر نسیم شاہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں انہیں بھرپور رہنمائی ملی۔ ان کے مطابق نسیم شاہ نے نہ صرف تکنیکی پہلوؤں پر مدد کی بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط رہنے کا طریقہ سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ پریشر اور چیلنجز کا سامنا کیسے کرنا ہے، یہ سیکھنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے بہت اہم ہوتا ہے، اور اس حوالے سے انہیں جو مدد ملی، اس کا کریڈٹ وہ نسیم شاہ کو دیتے ہیں۔
میچ کے آخری لمحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے حنین شاہ نے بتایا کہ جب انہیں محدود رنز کا دفاع کرنا تھا تو انہوں نے زیادہ گفتگو یا پیچیدہ حکمت عملی اپنانے کے بجائے سادہ منصوبہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے پلان پر مکمل اعتماد تھا اور انہوں نے ذہن میں واضح رکھا کہ یارکر گیندوں کے ذریعے رنز روکنے ہیں۔ اسی سوچ کے مطابق انہوں نے فیلڈنگ سیٹ کی اور اپنی توجہ صرف عملدرآمد پر مرکوز رکھی۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر اعتماد اور یکسوئی سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر تماشائیوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ حنین شاہ کے مطابق کراؤڈ کی موجودگی کھلاڑیوں کے حوصلے کو بڑھاتی ہے اور میدان کا ماحول مزید جوش و خروش سے بھر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھی شائقین کی حمایت سے توانائی ملی، جس نے ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ ان کے مطابق جب اسٹیڈیم میں جوش و جذبہ ہوتا ہے تو کھلاڑی بھی اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کوچنگ اسٹاف کے کردار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ انہیں ہمیشہ یہ ہدایت دی گئی کہ کھیل کے دوران ذہن کو صاف اور پرسکون رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بولنگ کیسی بھی ہو، اصل چیز ذہنی توازن برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسی اصول کو اپنایا اور میدان میں غیر ضروری دباؤ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ ان کے مطابق یہی رویہ انہیں مشکل حالات میں بھی بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حنین شاہ کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی کامیابی صرف ایک میچ تک محدود نہیں بلکہ یہ مسلسل محنت، مضبوط اعصاب اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے جس انداز میں اپنی تیاری، مشکلات اور کامیابی کا ذکر کیا، وہ ایک نوجوان کھلاڑی کے عزم اور لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔
ٹیم کے مجموعی ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون موجود ہے، جو کسی بھی ٹیم کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جب تمام کھلاڑی ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو ٹیم کی کارکردگی خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہی ٹیم اسپرٹ انہیں فائنل میں بھی کامیابی دلانے میں مدد دے گی۔
