دمشق: دسمبر 2024 میں سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور نئے صدر احمد الشرع کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں بڑی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اسرائیل نے نئی شامی قیادت اور خصوصاً شامی فوج کی ازسرِ نو تشکیل کو اپنے لیے ایک ممکنہ اور طویل المدتی خطرہ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار “معاریو” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام دمشق میں ہونے والی عسکری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تل ابیب کو خدشہ ہے کہ احمد الشرع کی قیادت میں شام نہ صرف اپنی فوجی طاقت بحال کر رہا ہے بلکہ مستقبل میں زیادہ منظم، جدید اور مؤثر عسکری قوت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی قیادت، تنظیمِ نو، تربیتی ڈھانچے اور جدید حربی حکمتِ عملیوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جسے اسرائیل اپنی شمالی سرحد کے لیے بڑا چیلنج تصور کر رہا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکیہ بھی شام کی نئی حکومت کو فوجی صلاحیتیں بحال کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے اور انقرہ دمشق کی عسکری تنظیم نو میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسرائیلی اداروں کے مطابق آنے والے برسوں میں شام کی نئی فوج ایک ایسی قوت بن سکتی ہے جو اسرائیل کے لیے ’’اسٹریٹجک خطرہ‘‘ ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے شام کے اندر ہونے والی ہر عسکری تبدیلی، نئی بھرتیوں، اسلحے کی منتقلی اور فوجی تربیت کے عمل پر گہری نگرانی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب دسمبر 2024 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں میں بھی اضافہ کر دیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے متعدد فوجی اڈوں، تنصیبات اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا، جبکہ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے بفر زون پر بھی قبضہ کر لیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج جنوبی شام کے کئی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے مستقل فوجی چوکیاں قائم کر چکی ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران جنوبی شام میں اسرائیلی کارروائیوں میں گھروں پر چھاپے، ناکہ بندی، شہریوں کی گرفتاریاں اور چرواہوں سمیت بچوں کو حراست میں لینے جیسے اقدامات بھی شامل رہے، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔
ادھر شامی صدر احمد الشرع نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں عندیہ دیا تھا کہ ان کی حکومت اب بھی اسرائیل کے ساتھ نئے سلامتی معاہدے پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یا تو 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے یا ایسا نیا معاہدہ ترتیب دیا جا سکتا ہے جو دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بنائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شام میں نئی سیاسی قیادت، ترکیہ کی ممکنہ عسکری معاونت اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تشویش مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتی ہے، جہاں سفارت کاری اور عسکری طاقت ایک بار پھر آمنے سامنے دکھائی دے رہی ہیں۔
