اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان کی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جہاں لاکھوں پاکستانی محنت کش ہر ماہ اربوں ڈالر ترسیلاتِ زر کی صورت میں وطن بھیجتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ترسیلات ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، تاہم ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے اس اہم مالی بہاؤ کو متاثر کرنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
سرکاری تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں سالانہ تین سے چار ارب ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً دس فیصد ہیں، جو گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً چالیس ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ کمی واقع ہوئی تو زرِمبادلہ کی شرح پر دباؤ بڑھے گا، جاری کھاتوں کا خسارہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مجموعی معاشی استحکام متاثر ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ صورتحال پاکستان کی معیشت اور افرادی قوت کی منڈی دونوں پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ اس وقت تقریباً ساٹھ لاکھ پاکستانی اس خطے میں کام کر رہے ہیں، جبکہ ہر سال سات سے آٹھ لاکھ افراد روزگار کے لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ خطہ پاکستان کی مجموعی ترسیلاتِ زر کا نصف سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو نہ صرف نئی بھرتیوں میں کمی آئے گی بلکہ بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کشوں کی وطن واپسی کا بھی خدشہ ہے، جس سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق سن دو ہزار چھبیس میں تقریباً پانچ لاکھ نئے پاکستانی مشرقِ وسطیٰ نہ جا سکیں گے، جبکہ اتنی ہی تعداد میں پہلے سے مقیم افراد کو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واپس آنے والے محنت کشوں کے اثرات خیبر پختونخوا اور پنجاب میں زیادہ محسوس کیے جائیں گے، جہاں بیرونِ ملک کام کرنے والے افراد مقامی معیشت کا اہم سہارا ہیں۔
مزید یہ کہ خطے میں عدم استحکام توانائی کی قیمتوں میں اضافے، تجارتی راستوں میں رکاوٹوں اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان کی تقریباً گیارہ فیصد برآمدات بھی اسی خطے کو جاتی ہیں، اس لیے علاقائی کشیدگی بیرونی تجارت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی میں تقریباً نوے فیصد پاکستانی محنت کش روزگار کے لیے خلیجی ممالک گئے، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود منڈیوں پر انحصار پاکستان کو بیرونی جھٹکوں کے لیے زیادہ حساس بناتا ہے۔
ماہرِ معیشت اور سابق وزیرِ مملکت ہارون شریف نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں بیس سے پچیس فیصد تک کمی ہو سکتی ہے، جبکہ ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج میں پہلے ہی کچھ پاکستانی بے روزگار ہیں اور حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں سب سے پہلے غیر ملکی محنت کش متاثر ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں کمی کے باعث ملک کو ڈالر کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط مضبوط بنائے جائیں تاکہ پاکستانی کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں روزگار کے مواقع تلاش کیے جائیں اور افرادی قوت کو عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔
مزید برآں، ماہرین کے مطابق پاکستان کو غیر ضروری درآمدات کم کرنی ہوں گی اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مؤثر مذاکرات کے ذریعے برآمدات بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی تاکہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے

Add A Comment