برطانیہ کے معروف اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات میں جاری سرد مہری نے براہِ راست اثر بھارتی ارب پتی شخصیات اور ان کے امریکی تجارتی مفادات پر ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کی ہندوتوا پرور پالیسی اور دوغلی خارجہ حکمت عملی نے امریکا میں بھارتی سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کو محدود کر دیا ہے، جس سے ارب پتی لابی کی بڑی سرمایہ کاری بھی امریکی مارکیٹ میں مطلوبہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اخبار نے واضح کیا کہ گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ذاتی روابط، لابنگ یا سیاسی اثر و رسوخ امریکی قانونی ترجیحات پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے نہ صرف مالی بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارت کی معرکہ حق میں شکست کے بعد امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات اور ٹیرف تنازعات میں کسی قسم کے ٹھوس اقدامات یا پیش رفت نہیں دیکھنے کو ملی، اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھارت اور امریکا کے اعلیٰ سطحی رابطے تقریباً منقطع رہے۔
اخبار نے مزید کہا کہ امریکا نے اپنی ترجیحات میں تبدیلی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اضافہ کیا، جس سے بھارت کے خطے میں اثر و رسوخ پر بھی اثر پڑا۔ اس سرد مہری نے بھارت کے ارب پتی سرمایہ کاروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کی ہیں اور خطے میں امریکا-بھارت تعلقات کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارت کو اپنے عالمی موقف اور اقتصادی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی تاکہ نہ صرف اپنی ارب پتی شخصیات کے مفادات محفوظ رکھے جا سکیں بلکہ امریکا کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات میں پائیداری بھی قائم رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی دوغلی خارجہ پالیسی اور ہندوتوا پرور اقدامات نے امریکا میں بھارتی سرمایہ کاری کے مواقع محدود کر دیےارب پتی شخصیات کی بڑی سرمایہ کاری بھی قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے امریکی مارکیٹ میں مطلوبہ اثر پیدا نہیں کر سکی۔پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں اضافہ بھارت کے لیے خطے میں چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ اگر وہ امریکا کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات مضبوط نہیں کرے گا تو ارب پتی سرمایہ کار اور ملکی معیشت دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
