وینزویلا کے اسیر صدر نکولس مادورو کے حق میں امریکا کے شہر نیویارک میں شہریوں نے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق نیویارک کے علاقے بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن حراستی مرکز کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ان پلے کارڈز پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حمایت، جنگ کی مخالفت اور امریکی فوجی مداخلت کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے وینزویلا کی سرزمین پر امریکی فوجی کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی خودمختار ملک میں مداخلت بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ امریکا تیل اور معاشی مفادات کے لیے ایک خودمختار قوم کو جنگ کی آگ میں دھکیل رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وینزویلا کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے اور صدر نکولس مادورو کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے امریکا کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ ترکیہ، اسپین اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں شہریوں نے وینزویلا کے حق میں ریلیاں نکالیں اور امریکی مداخلت کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو جنگ کے بجائے امن اور خودمختاری کے اصولوں کا تحفظ کرنا چاہیے۔
