اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں حالیہ فوجی کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 جنوری کو ہونے والی امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وینزویلا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور اس کے عالمی امن پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے واضح طور پر کہا کہ وینزویلا میں کی جانے والی امریکی فوجی کارروائی میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی، جبکہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا امریکی تحویل میں ہونا صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے نہ صرف وینزویلا میں عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ پورا خطہ اس کے منفی اثرات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کریں اور طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے جامع، شفاف اور جمہوری مکالمے کا آغاز کریں، تاکہ وینزویلا کے عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ، قدرتی وسائل کے تنازعات اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل کے حل کے مؤثر اور پرامن ذرائع پہلے سے موجود ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی بھی ریاست کی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے وینزویلا حکومت کی درخواست پر مقرر کیے گئے انتخابی ماہرین کے پینل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پینل نے انتخابی عمل میں سنگین خامیوں اور مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ مسلسل وینزویلا میں انتخابات کے نتائج کی مکمل شفافیت اور ان کی بروقت اشاعت کے لیے اپیل کرتا رہا ہے، تاکہ عالمی برادری کا اعتماد بحال ہو اور سیاسی بحران کا پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے۔
