واشنگٹن/کاراکاس: پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ روزاعلان کیا کہ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں امریکی افواج نے ایک تاریخی کارروائی کے دوران بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر لیا۔ اس آپریشن میں تقریباً 200 امریکی اہلکار اور 150 سے زیادہ فوجی طیارے شامل تھے، جنہوں نے وینزویلا کے دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے کارروائی کامیابی سے مکمل کی، اور کسی بھی امریکی کو نقصان نہیں پہنچا۔
ہیگستھ نے بتایا کہ یہ کارروائی مادورو کی 12 سالہ آمرانہ حکمرانی کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ امریکی حکومت کا موقف ہے کہ مادورو منشیات کے عالمی کارٹلز میں ملوث رہا ہے، اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو 50 ملین ڈالر کا انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
پینٹاگون سربراہ نے کہا یہ آپریشن نہ صرف ماہر منصوبہ بندی بلکہ بہترین تعاون کی مثال ہے۔ ہماری افواج نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر بغیر کسی ہلاکت کے مطلوبہ فرد کو گرفتار کیا۔
مادورو، جو خود کو سوشلسٹ حکمران قرار دیتے ہیں، نے وینزویلا میں انتخابات کے ذریعے اقتدار برقرار رکھا، جن پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے۔ گرفتاری کے بعد مادورو اور فلورس نے نیویارک کی عدالت میں بے قصور ہونے کی درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
کارروائی کی تفصیلات کے مطابق، امریکی اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر میں داخل ہوئے اور مختلف اہداف پر ٹھوس کارروائی کی، جبکہ فوجی طیاروں نے وینزویلا کے دفاعی نیٹ ورک کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی اہلکار نے اس نوعیت کی کارروائی میں شامل فوجیوں کی تعداد اور حکمت عملی کی تفصیلات منظر عام پر لائی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق، یہ کارروائی امریکی حکومت کی عالمی سکیورٹی اور منشیات کے خلاف جنگ کی ایک نئی مثال ہے۔ اس سے قبل مادورو کی حکومت نے وینزویلا کے داخلی اور خارجی نظام پر سخت کنٹرول رکھا اور ملکی وسائل پر قبضہ کیا، جس کے باعث امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے محتاط رہے۔
کارروائی کے بعد عالمی میڈیا نے اسے وینزویلا کی تاریخ میں ایک نیا موڑ قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ نے اسے منشیات کی عالمی مارکیٹ پر کنٹرول اور خطے میں استحکام کی کوشش قرار دیا۔
