امریکی دھمکیوں کے جواب میں برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت یورپ کی بڑی طاقتوں اور کینیڈا نے ڈنمارک کے زیر انتظام گرین لینڈ کی کھل کر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ آرکٹک جزیرہ کسی بیرونی طاقت کا نہیں بلکہ وہاں کے عوام کی ملکیت ہے۔
گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق امریکی بیانات کے بعد امریکا کے قریبی اتحادیوں نے غیر معمولی طور پر ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر واشنگٹن کے مؤقف سے فاصلہ اختیار کیا۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کی حیثیت کا فیصلہ اس کے عوام کریں گے اور کسی قسم کا دباؤ یا دھمکی ناقابلِ قبول ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیر گرین لینڈ حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ڈنمارک سے یہ علاقہ خریدنے، جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی کا معاہدہ کرنے اور حتیٰ کہ عسکری آپشن پر غور بھی شامل ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے ڈنمارک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا عملی طور پر طاقت اور قوت کے اصولوں پر چلتی ہے، ان کا یہ بیان سفارتی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کے ارکان کو آگاہ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ گرین لینڈ پر حملہ نہیں بلکہ اسے خریدنے پر مشتمل ہے۔
ان بیانات کے جواب میں ڈنمارک نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ گرین لینڈ چینی سرمایہ کاری یا جنگی جہازوں سے بھرا ہوا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے جزیرے میں مزید سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا جائے گا، بشرطیکہ یہ سرمایہ کاری خودمختاری اور قوانین کے دائرے میں ہو۔
ادھر گرین لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر امریکی وزیرِ خارجہ سے صورتحال پر فوری ملاقات کی درخواست کی ہے۔ گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے یورپی رہنماؤں کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کو سراہتے ہوئے امریکا سے احترام اور سفارتی مکالمے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ کا موازنہ وینزویلا سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ گرین لینڈ ایک جمہوری معاشرہ ہے جہاں عوامی رائے اور خودمختاری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
