کسٹمز کے سرکاری اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ وینزویلا نے سابق صدر نکولس مادورو کے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں تقریباً 4.14 ارب سوئس فرانک (5.20 ارب امریکی ڈالر) مالیت کا سونا سوئٹزرلینڈ منتقل کیا۔ یہ منتقلی ایسے وقت میں کی گئی جب وینزویلا شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور حکومت اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے قیمتی دھات کے ذخائر فروخت کر رہی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوبی امریکا کے اس ملک نے 2013 سے 2016 کے درمیان 113 ٹن سونا سوئٹزرلینڈ برآمد کیا، یعنی وہ دور جب نکولس مادورو نے اقتدار سنبھالا اور ملک میں معاشی ابتری تیزی سے بڑھنے لگی۔
سوئس نشریاتی ادارے کے مطابق یہ سونا وینزویلا کے مرکزی بینک سے حاصل کیا گیا تھا، جسے غیر ملکی منڈیوں میں فروخت کر کے زرمبادلہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل نے ملکی اثاثوں کو کمزور اور شفافیت کو مشکوک بنا دیا۔
کسٹمز ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ 2017 میں یورپی یونین کی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد وینزویلا نے 2025 تک سوئٹزرلینڈ کو کوئی سونا برآمد نہیں کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی دباؤ کے بعد سونے کی منتقلی کا یہ سلسلہ مکمل طور پر رک گیا تھا۔
حالیہ پیش رفت میں 3 جنوری کو امریکی خصوصی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کارروائی کے دوران نکولس مادورو کو گرفتار کیا۔ انہیں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات سے جڑی دہشت گردی سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ادھر سوئٹزرلینڈ نے پیر کے روز مادورو اور ان کے 36 قریبی ساتھیوں کے ملک میں موجود اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کیا۔ تاہم سوئس حکام کی جانب سے ان اثاثوں کی ممکنہ مالیت یا ذرائع سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
تاحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا منجمد کیے گئے یہ اثاثے وینزویلا کے مرکزی بینک سے منتقل کیے گئے سونے سے کسی طور منسلک ہیں یا نہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس معاملے نے مادورو دور کے مالی لین دین پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور مزید عالمی تحقیقات کا امکان بڑھ گیا ہے۔
