امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری میں ایک اور بڑا اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کو نکالنے اور ان کی مالی معاونت مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بدھ کے روز اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا درجنوں ایسے عالمی اداروں سے دستبردار ہو جائے گا جو ان کے بقول امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
اس فیصلے کے تحت امریکا نہ صرف ایک اہم ماحولیاتی معاہدے سے الگ ہو رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے اس ادارے سے بھی کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے جو صنفی مساوات اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے سرگرم ہے۔
صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (UN Women) سے بھی علیحدہ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور صنفی برابری کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) سے بھی نکل رہا ہے، جو 150 سے زائد ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق پروگرامز چلاتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا گزشتہ سال ہی UNFPA کی فنڈنگ میں نمایاں کمی کر چکا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق ان 66 اداروں میں سے 35 ایسے ادارے شامل ہیں جو اقوام متحدہ کا حصہ نہیں۔ ان میں بین الاقوامی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) خاص طور پر نمایاں ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی، جمہوری عمل اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اہم عالمی کردار ادا کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ امریکا 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے بھی باضابطہ طور پر دستبردار ہو رہا ہے، جن میں اقوام متحدہ کا مرکزی موسمیاتی معاہدہ (UNFCCC)، اقوام متحدہ جمہوریت فنڈ اور زچہ و بچہ صحت سے متعلق ادارے شامل ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ سال تین دہائیوں میں پہلی بار اقوام متحدہ کے سالانہ عالمی موسمیاتی اجلاس میں شرکت بھی نہیں کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اقدام کثیرالجہتی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ، کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی دیرینہ بداعتمادی کا واضح اظہار ہے۔ وہ ماضی میں بھی بین الاقوامی اداروں کی افادیت، اخراجات اور احتساب پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ یہ ادارے اکثر امریکی مفادات کی مؤثر نمائندگی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اس غیرمعمولی اعلان پر آج باضابطہ ردعمل متوقع ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد سے امریکا کو عالمی ادارہ صحت (WHO)، پیرس موسمیاتی معاہدے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے پہلے ہی نکال چکے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید بھی سامنے آ چکی ہے۔
