وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیلو نے انکشاف کیا ہے کہ دارالحکومت کراکس پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں اب تک 100 افراد ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہو چکی ہے۔ کابیلو کے مطابق یہ حملہ وینزویلا کی تاریخ کے بدترین اور ہولناک حملوں میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
بدھ کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے ہفتہ وار پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ امریکی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو کی اہلیہ کے سر پر شدید چوٹ آئی جبکہ ان کے جسم پر بھی ضربیں لگیں، دوسری جانب صدر مادورو کی ٹانگ زخمی ہوئی۔ کابیلو کے مطابق خوش قسمتی سے دونوں رہنما طبی امداد کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں، تاہم حملے نے ریاستی اداروں اور عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگرچہ ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی حتمی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم خبر رساں ایجنسی فرانس پریس کے مطابق کم از کم ایک عام شہری، مسلح ملیشیاؤں کا ایک رکن، وینزویلا کے 23 فوجی اور کیوبا کے 32 فوجی اس امریکی آپریشن میں مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی آخری رسومات کی تصاویر نے عالمی میڈیا پر ہلچل مچا دی، جنہیں رائٹرز نے 7 جنوری 2025 کو جاری کیا۔
اس بحران کے بعد پیر کے روز حلف اٹھانے والی وینزویلا کی قائم مقام خاتون صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر ایسا داغ لگ چکا ہے جو ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی کارروائی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
تاہم حیران کن طور پر ڈیلسی روڈریگز نے اسی بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارت کوئی غیر معمولی یا غیر قانونی عمل نہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی نے واشنگٹن کو خام تیل فروخت کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ وینزویلا کے عارضی حکام امریکہ کو 3 سے 5 کروڑ بیرل خام تیل فراہم کریں گے، جو لاطینی امریکی ملک کی ایک سے دو ماہ کی مجموعی تیل پیداوار کے برابر ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر دعویٰ کیا کہ نئی تیل ڈیل کے تحت حاصل ہونے والی تمام رقم صرف امریکہ میں تیار کردہ مصنوعات کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔
ٹرمپ کے مطابق ان مصنوعات میں زرعی اجناس، ادویات، طبی آلات، بجلی کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کا سامان اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مواد شامل ہوگا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ وینزویلا پر معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ امریکی معاشی مفادات کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران وینزویلا کے تیل پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے باعث ملک کو عملی طور پر تیل کی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بعض خریدار مبینہ طور پر “شیڈو فلیٹ” کے ذریعے ان پابندیوں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اب واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کے تیل کو دوبارہ عالمی منڈی میں لانے کے لیے پابندیوں میں “انتخابی بنیادوں پر” نرمی کے لیے تیار ہے۔
