امریکا نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف سخت ترین معاشی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ایسے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکے گا۔ اس حوالے سے نیا ٹیرف بل امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پیش کر دیا ہے، جس کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھرپور حمایت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بل کی منظوری آئندہ ہفتے متوقع ہے، جس کے بعد صدر ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ روسی تیل خریدنے والے ہر ملک پر بھاری ٹیرف نافذ کر سکیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد روس پر معاشی دباؤ بڑھانا اور اس کی توانائی برآمدات کو محدود کرنا ہے۔
بل کی خبروں نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، خاص طور پر بھارت شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جو پہلے ہی 50 فیصد امریکی ٹیرف کی زد میں ہے۔ 500 فیصد ٹیرف کے خدشات سامنے آتے ہی بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں بھارتی سرمایہ کاروں کے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے ڈوب چکے ہیں، جب کہ سرمایہ کاروں میں بے چینی اور خوف کی فضا برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بل منظور ہو گیا تو بھارت کی توانائی درآمدات، صنعتی پیداوار اور برآمدی شعبہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکی ٹیرف بل کے ممکنہ اثرات صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں گے۔ رپورٹس کے مطابق برازیل اور چین بھی روس سے تیل کی خریداری کے باعث اس سخت امریکی اقدام کی زد میں آ سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارتی نظام میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں، اسٹاک مارکیٹس اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور ابھرتی معیشتوں کے درمیان تجارتی محاذ آرائی میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
