ڈنمارک نے امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی مداخلت کے خدشات کے تناظر میں نہایت سخت اور غیر مبہم مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ ڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو وہاں تعینات ڈینش فوجی کسی اعلیٰ اجازت کے بغیر فوری جوابی فائر کریں گے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اقدام کوئی نیا نہیں بلکہ 1952 سے نافذ فوجی قواعدِ کار (Rules of Engagement) کے عین مطابق ہے، جن کے تحت کسی بھی حملہ آور کے خلاف فوراً دفاعی کارروائی کرنا لازمی ہے۔ ان قواعد میں “پہلے فائر، بعد میں سوال” کی پالیسی شامل ہے، جو ڈنمارک کی خودمختاری کے تحفظ کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
یہ سخت بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہو چکا ہے، اور اس مقصد کے لیے فوجی طاقت بھی ایک آپشن ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کو امریکا کی قومی سلامتی کی ترجیح سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں امریکی فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، نہ کہ براہِ راست فوجی تصادم میں۔
ڈنمارک نے اس ملاقات کو ضروری سفارتی مکالمہ قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی دہرایا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
یورپی رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں امریکا کو خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف نیٹو اتحاد بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی سیکیورٹی نظام کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے۔
